#مردان صدق و صفا

  • علماء کرام اور مشائخ عظام کی حیات و خدمات پر مضامین و مقالات اور کتابیں لکھنے کا سلسلہ قدیم ہے، ہر دور اور زمانے میں قلم و قرطاس سے دل چسپی رکھنے والوں نے عام نفع کے لئے اسلاف کی زندگی اور ان کی خوبیوں کو بیان کیا ہے۔ ماضی میں بھی یہ سلسلہ قائم تھا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے، اکابرین امت کی سوانح اور ان کی خدمات کو محفوظ کرنے کا اہم مقصد آنے والی نسلوں کو ان سے متعارف کرانا اور ان کے قائم کردہ خطوط پر چل کر دین مستقیم پر گامزن رہنا ہے۔ زیر نظر کتاب "مردانِ صدق و صفا” بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں مختلف ادوار کے علماء و مشائخ کا ذکر خیر ہے، اس کتاب میں ان نفوس قدسیہ کا تذکرہ بھی موجود ہے جن کی حیات و خدمات پر وقت کی دبیز چادر نے پردہ ڈال دیا تھا، حالات کی ستم ظریفی نے یا تو ان کے اسماء کو قدیم تاریخ کی کتابوں میں گم کر دیا یا پھر ان کے ذکر خیر سے ہماری مجالس و محافل ویران ہوگئی تھیں، جیسے:خواجہ عثمان ہارونیؒ، شیخ شرف الدین یحیی منیریؒ، شیخ عبد القدوس گنگوہیؒ، مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور مولانا فیض الحسن سہارنپوریؒ وغیرہ نیز اس کتاب میں علم و فضل کے ان شہسواروں کا بھی تذکرہ ہے جن کے نام ہمارے درمیان متعارف ہیں لیکن ان کی حیات و خدمات کے پہلو فراموش کردیئے گئے ہیں جیسے:  خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ، خواجہ فرید الدین گنج شکرؒ، خواجہ علاؤ الدین صابر کلیریؒ، صاحب سلم العلوم ملا محب اللہ بہاریؒ، شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ، استاذ الکل مولانا مملوک علی نانوتویؒ، حافظ احمد علی محدث سہارنپوریؒ، مفتی صدر الدین آزردہؒ، مفتی عزیز الرحمان عثمانیؒ وغیرہ۔

  • اسلامی علوم وفنون اور تصوف و سلوک کے 43 در نایاب علماء ومشائخ پر مرتب کردہ یہ کتاب  قدیم و جدید کا حسین سنگم ہے جس میں بیک وقت تصوف کی وادیوں کو عبور کرنے والے مشائخ کی روداد بھی ہے اور علمی افق پر روشنی بکھیرنے والے آفتاب و ماہتاب بھی  ہیں۔ جنگل و بیابان اور سنگلاخ وادیوں میں ایمانی شمع روشن کرنے والے اہل دل کا تذکرہ بھی ہے اور محلات میں بادشاہوں کو دین اسلام کی جانب راغب کرنے والے عظیم مصلح بھی ہیں، ابتدائی عہد کے وہ زمانہ شناس افراد بھی ہیں جن کے علوم و معارف سے دنیا مستفید ہوئی ہے اور ماضی قریب کے وہ زندہ دل اصحاب فضل و کمال بھی ہیں جنہوں نے اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت میں پوری زندگی بسر کی ہے۔
    مذہب اسلام ہم تک کیسے پہنچا، کن واسطوں سے پہنچا اور ہم تک اس پیغام کو پہنچانے والوں نے کس طرح کام کیا ہے؟ کن حالات و مصائب سے دو چار ہوئے ہیں؟ ان باتوں کو جاننا از حد ضروری ہے کیونکہ جو قوم اپنے روشن ماضی کو بھلا دیتی ہے وہ مستقبل کے لئے لائحہ عمل بنانے سے عاجز ہوتی ہے۔
    کرونائی عہد میں اکابرین کی حیات و خدمات پر پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا، جو وقتاً فوقتاً ملک کے مختلف اخبارات اور مجلات میں شائع ہوتے رہے ہیں، علاوہ ازیں بندہ کی ذاتی سائٹ asjaduqaabi.com پر نشر کئے جاتے رہے ہیں۔ اب وہ تمام منتخب مضامین مفید حواشی اور نافع اضافوں کے ساتھ کتابی شکل میں منظر عام پر آنے کو ہے۔ الحمدللہ کتاب  تمام مراحل سے گزرنے کے بعد پریس میں چھپنے جاچکی ہے٬ پیشگی آرڈر کرنے والے خصوصی رعایت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کتاب کی ضخامت 426 صفحات ہیں، عام قیمت 450₹ روپے اور رعایت کے ساتھ 280 روپے ہے۔ ڈاک خرچ ہمارے ذمے ہوگا۔ پانچ یا زائد نسخوں کی خریداری پر پچاس فیصد کی رعایت دی جائے گی۔ کتاب مرکزی پبلی کیشنز نئی دہلی کے زیر اہتمام ان شاء اللہ اِسی ماہ منظرِعام پر آجائے گی ۔

فون پے/ گوگل پے وغیرہ کے ذریعے اس نمبر پر قیمت کی ادائیگی کی جا سکتی ہے‌۔ قیمت ادا کرنے کے بعد اسی نمبر پر اسکرین شاٹ اور اپنا مکمل ایڈریس واٹس ایپ کردیں۔

7977357911

محمد اسجد عقابی قاسمی
استاذ دارالعلوم وقف دیوبند
23جنوری 2024

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے