اولاد کی تربیت

اسعد اقبال قاسمی

اولاد کی تربیت کا مسئلہ ان اہم مسائل سے تعلق رکھتا ہے، جن سے معاشرے کی پہچان اور قوم و ملت کے عروج و زوال کی داستانیں وابستہ ہیں۔  یہ اتنا نازک اور حساس مسئلہ ہے کہ اس  میں معمولی لچک بھی اولاد کو بے راہ اور گمراہ کرسکتی ہے۔ جس طرح معمار ایک خوبصورت عالیشان عمارت بنانے سے پہلے مستحکم اور پائیدار بنیاد پر زیادہ زور صرف کرتا ہے اسی طرح  اعلی کردار اور روشن مستقبل کے لیے اولاد کی عمدہ تربیت پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر عمارت کی بنیاد کمزور اور غیر مستحکم ہو تو اس پر شاندار اور دیرپا عمارت کا تصور محال ہے ٹھیک اسی طرح اگر چھوٹے بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت ناقص اور غیر مستحکم ہو تو روشن مستقبل کی امیدیں مدھم اور دھیمی ہوجاتی ہے۔

تربیت کی پہلی ذمہ داری والدین کی ہوتی ہے، بچہ جب آنکھیں کھولتا ہے تو اس کو ایسے مربی اور راہ نما کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھائے، قدم قدم پر رہبری کرے، اور اسے سیدھی راہ پر گامزن کرسکے۔ زندگی کے اس مرحلے پر بچے کے لیے والدین ہی سب کچھ ہوتے ہیں، وہ  جس طرح رہ نمائی کرتے ہیں اور جو سکھاتے ہیں ہوبہو چیزیں بچوں کے دل و دماغ پر نقش ہوتی چلی جاتی ہے،اس لیے کہ ان کے دل صاف شفاف آئینے کی طرح مصفی ہوتے ہیں، اور ان نفیس اور چمکدار موتیوں کی طرح ہوتے ہیں جو نقش و صورت سے بالکل خالی ہوں، اور ایک مصور بہ آسانی اس پر جس طرح چاہے نقش و نگار کرسکتا ہے۔ لہذا ابتدا ہی میں ان کی صحیح تربیت کی جائے، اخلاق حسنہ سے مزین و مرصع کیا جائے، زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے، ان کے دلوں کو خیر و بھلائی کی طرف مائل کیا جائے، دنیا و آخرت کی سعادتوں اور انعام واکرام سے آگاہ کیا جائے۔ اسے صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے نافع بنایا جائے۔ 

والدین کی لاپرواہی اور ناقص تعلیم و تربیت کی وجہ سے بچہ مختلف سماجی برائیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثلا بچہ کو آزاد چھوڑ دینا کہ جہاں چاہیں جائیں، جس کے ساتھ نشست و برخاست کرنا چاہیں کریں، موبائل یا لیپ ٹاپ وغیرہ دے دینا اور نگرانی نہ کرنا کہ وہ  کس طرح استعمال کر رہا ہے، مثبت یا منفی۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں ان کا سابقہ ہر دو طرح کے بچوں سے ہوگا یعنی وہ نیک بھی ہوسکتے ہیں اور برے بھی۔ اور بچپن میں جیسی صحبت ملتی ہے ویسے ہی عادات و اطوار بعد کی زندگی میں ظاہر ہوتے ہیں۔

اصلاح و تربیت کے لیے سب سے بنیادی چیز جو اولاد کی تربیت اور تیاری میں اساسی کردار ادا کرتی ہے اور ایک صحیح اخلاقی تربیت کی بنیادیں استوار کرنے کی ضامن ہوتی ہے ، وہ ایک صحیح اور پاکیزہ اخلاقی ماحول ہے، اگر وہ خاندان جس میں بچہ آنکھیں کھولتا ہے اسلامی تعلیمات پر کاربند ہوں، اس کے والدین اسلامی زندگی کا نمونہ پیش کرتے ہوں، تو ان کی تربیت کے اثرات زندگی بھر رہتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے اپنے گھروں کا ماحول اچھا بنائیں اور ایسی فضا تیار کریں جس میں پرورش پانے والے بچے  اخلاق و کردار کا نمونہ بن جائیں۔ اگر پہلے اپنے آپ کی اصلاح نہیں کریں گے تو جتنی بھی سعی کریں لاحاصل ہوگی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز تربیت کی سب سے بڑی خصوصیت یہی تھی کہ آپ نے اپنے اصحاب کو جس جس بات کی تعلیم دی اس کا بذات خود عملی نمونہ پیش کیا۔

تربیت کے سلسلے میں یہ پہلو بھی قابل غور ہے  ہے کہ بچوں کے ساتھ ہمیشہ شفقت و محبت کا برتاؤ کریں، محبت و نرمی سے پیش آئیں ؛اس لیے کہ محبت کی زبان جلد سرایت کرتی ہے ۔ سختی سے اجتناب کریں ،یہ تنفر کا سبب بن سکتی ہے۔ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم شفقت ، محبت ، حسنِ سلوک اور نرمی و حکمت بھرے انداز سے بچّوں کی تربیت کا  خاص اہتمام فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت انس  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں : میں نے دس سال نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں گزارے مجھے کبھی کسی بات پر آپ نے” اف” تک نہیں فرمایا، نہ کبھی آپ مجھ پر ناراض ہوئے اور نہ کبھی مجھے ڈانٹا بلکہ کسی کام کے کرنے پر یہ نہ فرمایا کہ یہ کام تو نے کیوں کیا؟ یا نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ کیوں نہیں کیا؟آپ اخلاق میں تمام لوگوں سے افضل و احسن تھے۔ (صحيح بخاري: ١٩٧٣ ،صحيح مسلم: ٢٣٣٠،  شمائل ترمذي)

دوسرا مرحلہ بچے کی تعلیم کا آتا ہے، اس مرحلہ میں بھی والدین کی ذمہ داری ہے کہ پہلے دینی تعلیم کا انتظام کریں ۔ اس کے لیے ایسی درس گاہ کا انتخاب کریں جہاں خالص اسلامی ماحول میں تعلیم و تربیت کا بہترین نظام ہو، ایسی درس گاہ کا بالکل بھی انتخاب نہ کریں جہاں غیر اسلامی ماحول ہو اور جہاں مغربی اثرات کا غلبہ ہو۔ اس لیے کہ یہ اسلام سے دور لے جاتا ہے ،اور یہ دوری اسے الحاد و لادینیت کے دروازے تک پہنچا دیتی ہے ۔ آج جو مسلمان تنزلی اور پستی کا  شکار ہے وہ اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہی ہے۔ اس لیے یہ عزم کریں کہ ہم نسل نو کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ و پیراستہ کریں گے ، اور ایک مکمل اسلامی ماحول کی بنیاد ڈالیں گے ۔بحیثیت مسلمان ہمارے لئے اس بات کا جاننا بے حد ضروری ہے کہ ہماری کامیابی و کامرانی کا دار و مدار دینی معاملات اور دینی تعلیم سے وابستگی میں مضمر ہیں، اگر ہماری زندگی مذہب اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر گامزن ہے تو دنیا میں بھی سرخروئی حاصل ہوگی اور آخرت میں بھی اللہ تعالی بہترین بدلہ دیں گے۔ مومن کی زندگی کا حاصل صرف دنیا کی کامیابی نہیں ہے بلکہ دین و دنیا دونوں میں کامیاب ہونا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اولاد کے اچھے یا برے بننے میں والدین کی تربیت اور اُن کی نگرانی کو بہت بڑا دخل ہے اور یہ والدین کی اہم ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کی دینی واسلامی تربیت کا خاص خیال رکھیں انہیں بچپن ہی سے اچھے اخلاق وکردار کا حامل بنائیں اور دین سے تعلق ان کے ذہنوں میں راسخ کردیں۔

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے