مولانا محمد سالم قاسمی

مولانا محمد سالم قاسمی: حیات و خدمات کے چند درخشاں پہلو

اس دنیائے رنگ و بُو کا دستور ہے کہ یہاں جو بھی آتا ہے اسے عمرِ عزیز کا کچھ حصہ گزار کر رخصت ہونا پڑتا ہے۔ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں جنم لینے والے انسان اور موجودہ وقت میں کروڑوں کی تعداد میں بسنے والے ابن آدم میں چند ہی ایسے ہوتے ہیں جنہیں دنیا جانتی ہے اور جن کے کارنامے دنیا والوں کے لئے نافع اور مفید ہوتے ہیں۔ اس عالَم اسباب کا قاعدہ ہے کہ جو یہاں دوسروں کے لئے جتنا کارآمد ثابت ہوتا ہے اسے بعد کی نسلیں اتنے زیادہ دنوں تک یاد رکھتی ہے، خواہ وہ کارنامے دنیاوی اغراض میں سے ہو یا پھر خالص مذہبی، دنیاوی زندگی میں عزت و احترام دونوں کو یکساں میسر ہوتا ہے اور دونوں ہی اپنے میدان میں دوسروں کے لئے مشعل اور مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن جو لوگ دین و دنیا دونوں معاملات میں خود کو ممتاز بناتے ہیں اور اپنی جانفشانی، محنت، جہد مسلسل اور بے مثال قربانیوں کے صلہ میں ایسے کارنامے انجام دے جاتے ہیں جو تاریخ کے سنہرے اوراق میں ہمیشہ کے لئے مرقوم ہوجاتے ہیں۔ ایسی ایک ہستی اور ذات نے سر زمین دیوبند میں خانوادہ قاسمی میں اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔ یوں تو یہ خانوادہ اپنے علم و عمل اور فضل و کمال میں عالم اسلام میں اپنی ایک الگ شناخت اور حیثیت رکھتا ہے لیکن خانوادہ کے جن افراد نے علم کے اس ورثے کو سنبھالے رکھا ہے ان میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کے پڑپوتے یعنی حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ کے بیٹے خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمیؒ کا نام بہت نمایاں ہیں، آپ نے اپنے آباؤ  اجداد کے علمی تفوق اور تواضع و انکساری کا جو نمونہ پیش کیا تھا وہ آج بھی خلقِ خدا کے زبان زد عام ہے۔  

خاندانی پس منظر

خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی کا خاندان علم و عمل کے باب میں ایسا دمکتا اور چمکتا ستارہ ہے جس نے اپنی روشنی سے نہ صرف لوگوں کو راہ مستقیم دکھانے کا کام کیا ہے بلکہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اور عیسائیت کے سیلاب کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ آپ کے جد امجد حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا شمار برصغیر کے ان چند علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے فرنگی دور میں ہر سمت سے اسلامی شعار اور مسلمانوں کے دین و ایمان کے تحفظ کا سامان فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور باطل کے لئے سد سکندری بن کر ابھرے ہیں۔ 1857 کی جنگ آزادی میں جب انگریزوں کے خلاف پورے ملک میں یکبارگی غصہ پھوٹ پڑا اور ہندوستانی عوام نے مذہب سے قطع نظر انگریزوں کے خلاف بغاوت کیا تو ایک محاذ شاملی میں بھی قائم کیا گیا جس کی قیادت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے ہاتھوں میں تھی اور جس فوج میں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حافظ ضامن شہید جیسے خدا ترس نوجوان بھی شامل تھے۔ شاملی کا معرکہ انگریزی فوج کے لئے بُرا خواب بن گیا اور انہیں ذلت آمیز شکست سے دو چار ہونا پڑا لیکن ملک بھر میں انگریزوں کی فتح اور دہلی کے گھراؤ کی وجہ سے اس فتح کا وہ کامیاب نتیجہ نہیں مل سکا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ انگریزی حکومت کے قیام کے بعد جب عیسائیوں نے اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کی اور مسلم قوم کو نشانہ بنانے لگے، ایسے وقت میں آریہ سماج کے بانی پنڈت دیانند سرسوتی بھی مسلم دشمنی میں انگریزوں کے شانہ بشانہ ہوگئے اور دو طرفہ مسلمانوں کے ایمان و عقائد پر شب خون مارنے کی تیاری ہونے لگی، یہ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی ذات گرامی تھی جنہوں نے بیک وقت دونوں فتنوں کی سرکوبی کی اور مباحثہ شاہ جہاں پور میں اسلام کی حقانیت کا علی الاعلان پرچم بلند کیا۔

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کے بیٹے اور مولانا محمد سالم صاحب قاسمیؒ کے دادا فخر الاسلام حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ اپنے دور کے جید عالم دین اور حکومت نظام حیدرآباد کے صدر مفتی رہے ہیں۔ آپ نے اپنے دور اہتمام میں دارالعلوم دیوبند کی ترقی اور کامیابی کے لئے حیران کن اور پائیدار اقدامات کئے ہیں۔ آپ کے دور کے اہتمام میں جہاں طلبہ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے وہیں عمارتوں کے باب میں بھی آپ نے طلبہ کی سہولت کے پیش نظر کام کئے ہیں۔  دارالعلوم دیوبند کی شاندار اور پر شکوہ عمارت "دارالحدیث” آپ کے ہی دور اہتمام میں تعمیر کی گئی تھی جو آج تک آن بان شان کے ساتھ قائم و دائم ہے۔

حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ کی شخصیت اس گوہر نایاب کی ہے جو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ آپ نے انتظام و انصرام کے علاوہ علمی دنیا میں جو کارنامے انجام دیئے ہیں وہ آج بھی ہزاروں صفحات میں بکھرے پڑے ہیں اور موجودہ دور میں بھی علماء کرام اور واعظین ان سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔ آپ نے مختلف موضوعات پر بے شمار کتابیں تصنیف فرمائی ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بیشتر فنون وہ ہیں جن پر آپ کے قلم نے علم و فضل کے لعل و گہر نچھاور کئے ہیں۔

پیدائش اور ابتدائی تعلیم و تربیت

مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی پیدائش 8 جنوری 1926 بمطابق 22 جمادی الثانی 1344 ہجری ہے۔ آپ علم و عمل کی بستی دیوبند میں مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کے گھر پیدا ہوئے اور آپ کی مکمل تربیت والد بزرگوار کے زیر سایہ ہوئی ہے۔ آپ کا بچپن ایسے نفوس قدسیہ کے درمیان گزرا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں علم و عمل کے ساتھ تقوی و طہارت کے باب میں بھی نمایاں کارنامے انجام دیئے ہیں۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مفتی محمد شفیع عثمانیؒ، علامہ شبیر احمد عثمانی اور شیخ الاسلام مولانا حسین احمدؒ مدنی جیسے جبال علم اور صاحب فضل و کمال کے درمیان آپ کا بچپن بسر ہوا جس نے آپ میں فطری طور پر علوم و معرفت سے قلبی لگاؤ اور وابستگی پیدا کردیا تھا۔ آپ کے تعلیمی سلسلہ کو شروع کرنے کے لئے دستور کے مطابق "رسم بسم اللہ” کی تقریب منعقد کی گئی جس میں علماء و مشائخ کی موجودگی میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے خلیفہ اور محدث کبیر حضرت مولانا سید اصغر حسن دیوبندی ؒ نے رسم ادا کرائی۔ بعد ازاں، آپ دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور ناظرہ تا دورہ مکمل تعلیم سے فراغت ہوئی۔ آپ نہایت ذکی، فطین اور سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے، دوران طالب علمی کتابوں کی ورق گردانی اور اسلاف و اکابرین کی خدمت میں حاضری کے علاوہ دیگر مشاغل سے ممکنہ حد تک اجتناب برتا کرتے تھے۔

اس درمیان میں 1360 ہجری میں، مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے مہتمم حضرت مولانا سلیم صاحبؒ نے دہلی میں ایک دفتر قائم کیا اور کچھ دنوں کے لئے مولانا محمد سالم صاحب قاسمیؒ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ مولانا کی تعلیم کا ابتدائی زمانہ تھا اس لئے عربی زبان و ادب میں گہرائی و گیرائی پیدا کرنے کا یہ بہترین موقع تھا اور اسی مناسبت سے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ نے اجازت بھی مرحمت فرمائی تھی۔ دہلی سے واپسی کے بعد آپ والد ماجد کے ہمراہ تھانہ بھون حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے جہاں حضرت تھانویؒ نے آپ کو بنفسِ نفیس میزان الصرف از اول تاآخر پڑھائی۔

عملی زندگی کا آغاز

1948 میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد اسی سال آپ بحیثیت مدرس دارالعلوم میں منتخب کر لئے گئے تھے۔ اکابرین و اساطین نے اس جوہر نایاب کو آغاز شباب میں ہی دریافت کرلیا تھا، اور صیقل کرنے اور تراش کر مزید نکھار پیدا کرنے کے لئے حلقہ احباب میں شامل فرمالیا تھا۔ ابتدا میں آپ کو "نور الایضاح” اور "ترجمہ قرآن” پڑھانے کو دیا گیا۔ بعد ازاں وقت کے ساتھ کتابیں ادلتی بدلتی رہی اور ایک زمانہ ایسا گزرا کہ درس نظامی میں پڑھائی جانے والی تمام کتابیں یکے بعد دیگرے آپ سے منسلک رہی ہیں۔ ان ایام میں آپ نے وہ کتابیں بھی پڑھائی ہیں جو عموما تکمیلات کے شعبے میں داخل ہیں۔ 1978-79 کا سال آپ کے لئے نہایت اہم اور مفید رہا تھا، یہ وہ سال ہے جب آپ کو دارالعلوم دیوبند جیسے ادارہ میں جہاں حضرت نانوتویؒ، حضرت شیخ الہندؒ، علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ اور دیگر محدثین عظام نے علم حدیث کی سب سے اہم اور مستند کتاب کا درس دیا تھا اسی درس گاہ میں آپ کو بھی "بخاری شریف” پڑھانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔بعد ازاں، تادم حیات آپ بخاری شریف کا درس دیتے رہے اور ہزاروں کی تعداد میں تشنگان علوم نے آپ سے کسب فیض کیا ہے۔ آپ کے فیض یافتگان صرف ملک بھر میں نہیں بلکہ اکناف عالَم میں پھیلے ہوئے ہیں اور دین اسلام کی حفاظت و صیانت اور اشاعت و تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے درس و تدریس کی مدت سات دہائیوں پر مشتمل ہے اور ان ایام میں آپ نے ایسے ادارہ کو اپنی علمی جولان گاہ بنائے رکھا جسے ایشیا کا ازہر کہا جاتا ہے اور جہاں متفقہ طور پر بیک وقت سب سے زیادہ فراغت حاصل کرنے والے طلبہ ہوتے ہیں۔

ایک کامیاب استاذ اور باکمال مدرس کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ طلبہ اس کے درس و تدریس اور طرز و انداز سے مطمئن ہوں، اور طلبہ اس کی درس گاہ میں جانے کے لئے ایسے ہی بے چین اور بے قرار رہیں جیسے شدت پیاس میں پانی کی طلب ہوتی ہے۔ اگر استاذ اس پایہ کا ہے تو یقینا کامیاب مدرس تصور کیا جاتا ہے، اس باب میں مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی ذات نرالی اور انوکھی تھی۔ طلبہ کرام کو آپ سے عشق کی حد تک والہانہ لگاؤ تھا، اور اس وارفتگی اور محبت کی سب سے بڑی اور اہم وجہ آپ کا درس اور درس میں ملنے والے وہ جواہر و یاقوت تھے جو برسوں کی روق گردانی پر بھی بمشکل میسر ہوتے ہیں۔ آپ کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک جملہ علم و حکمت اور اسرار و رموز سے پُر ہوا کرتا تھا، آپ کی باتیں طلبہ کی علمی تشنگی بجھانے کے علاوہ ان میں مزید حاصل کرنے کی امنگ بھی بیدار کرتی تھی۔ آپ کی ذات کو سمجھنے اور پہچاننے کے لئے آپ کے شاگردوں پر ایک ہلکی نظر ڈالی جائیں:

حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ (بانی فقہ اکیڈمی انڈیا، سابق صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ)

حضرت مولانا ولی رحمانیؒ (سابق جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، سابق امیر شریعت سابع بہار، اڈیسہ و جھارکھنڈ)

حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوریؒ (سابق صدر المدرسین و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند)

حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی (مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند)

حضرت مولانا ارشد مدنی (صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند و صدر جمعیۃ علماء ہند)

حضرت مولانا سفیان قاسمی (مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند)

خارجی مصروفیات

آپ ایک باکمال مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ بے مثال مربی اور منتظم بھی تھے۔ درس و تدریس کے علاوہ حالات حاضرہ سے مکمل واقفیت رکھتے تھے اور مسلم مسائل پر ہمیشہ مطلع رہا کرتے تھے۔ چنانچہ جب اکابرین نے مسلم پرسنل لاء بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا، تو آپ نے والد محترم حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی معیت میں پورے ملک کا دورہ کیا۔ مختلف علاقوں میں مختلف مزاج کے افراد سے ملاقاتیں ہوئیں اور مذہب کی بنیاد میں ملک میں پھیلے مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا اہم کام انجام دیا تھا۔ آپ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اساسی بلکہ اس گروہ میں تھے جنہوں نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کا خاکہ تیار کیا تھا اور اسے امت مسلمہ کے سامنے پیش کیا تھا۔

آپ علم و معرفت کے باب میں یقینا اعلی مقام پر فائز تھے لیکن حالات حاضرہ پر مکمل گہری نظر رکھتے تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے واقف تھے، چنانچہ آپ نے ستر کی دہائی میں ایسا کارنامہ انجام دیا جس کا تصور اس وقت ممکن نہیں تھا۔ آپ نے ملک بھر میں پھیلے مسلمانوں کو اعلی تعلیم سے جوڑنے اور سرکاری ڈگری کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے فاصلاتی کورس کا آغاز کیا جسے دینیات کا نام دیا گیا۔ 1 جنوری 1966 میں اس کی بنیاد رکھی گئی اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ (سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند) کی قیادت میں اس سفر کا آغاز کیا گیا۔ آپ کی دعائیں اور اکابرین امت کی حمایت نے آپ کے لگائے پودے کو تناور درخت کی شکل میں بدلا جو بعد کے دور میں امت مسلمہ کے لئے بار آور ثابت ہوا۔ جامعہ دینیات سے اب تک پچاسی ہزار سے زائد مسلمان استفادہ کرچکے ہیں۔ جامعہ کی سند  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، کشمیر یونیورسٹی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے علاوہ اور بھی دیگر اداروں میں قابل قبول ہے۔

اجلاس صد سالہ دارالعلوم کی تاریخ کا حسین اور سنہرا باب ہے، اس اجلاس میں عالَم اسلام کے عظیم ترین سپوت اور گوشہائے عالم میں بسنے والے بے شمار علماء کرام نے شرکت کی تھی۔ اس اجلاس کی تیاری کے لئے جو کمیٹی تیار کی گئی اس میں مولانا وحید الزمان کیرانویؒ کے ساتھ مولانا محمد سالم قاسمیؒ بھی شامل تھے۔ آپ نے رفقاء کرام کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور لوگوں کو منعقد ہونے والے اجلاس کی اہمیت و افادیت سے واقف کرایا۔ بعد ازاں، جب بیرون ممالک میں دعوت نامے اور تعارف کے سلسلسہ میں وفد بھیجنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس ذمہ داری کے لئے بھی آپ کا انتخاب عمل میں آیا، آپ نے ملک و بیرون ملک میں اس اجلاس کی کامیابی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔

حکیم الاسلام سیمینار

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ (سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند، بانی و صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) کی ذات گرامی علمائے اسلام کے لئے محتاج تعارف نہیں ہے۔ آپ کی انتظامی اور علمی صلاحیتوں پر اگر لکھا جائے تو دفتر تیار ہوجائیں، آپ کی ذات سے نئی نسل کو متعارف کرانے اور نسل نو میں ان کی خوبیوں کو اجاگر کرنے اور ان کی قربانیوں کو سمجھانے کے لئے 2006 میں مولانا محمد سالم قاسمیؒ نے دارالعلوم وقف دیوبند میں سیمینار منعقد کرایا۔ اس سیمینار میں مختلف موضوعات پر مقالات پیش کئے گئے اور حضرت حکیم الاسلام کی مختلف صفات اور علمی تحقیقات کو زیر بحث لایا گیا، جس کا خاطر خواہ فائدہ یہ ہوا کہ ایسے بہت سے رسالے اور علمی مقالے جنہیں وقت کی گرد نے ڈھانپ لیا تھا، نئے سرے سے منقح ہوکر عوام کی دسترس میں پہنچ گئے۔  حجۃ الاسلام اکیڈمی نے حضرت حکیم الاسلام کی سوانح بنام "حیات طیب” دو جلدوں میں شائع کیا ہے، جس کا انگریزی ترجمہ بھی منظر عام پر آچکا ہے۔

خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ امت مسلمہ کے تئیں بہت زیادہ فکرمند رہا کرتے تھے، مدارس کے سلسلہ میں آپ کا نظریہ تھا کہ انہیں سرکار کی تحویل میں نہ دیا جائے بلکہ خود ان میں بہتری کی صورت پیدا کی جائے۔ موجودہ حالات اور عصری علوم کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر آپ نے مدارس کو اس جانب خصوصی توجہ دینے پر بارہا زور دیا تھا۔ آپ علیحدہ کسی عمارت یا تعمیر کے حق میں نہیں تھے بلکہ موجودہ فراہم کردہ وسائل میں ہی نئی چیزوں کو شروع کرنے اور انہیں بروئے کار لانے کے قائل تھے۔ مدارس اور یونیورسٹی کے درمیان قائم خلیج کو کم کرنے کی بارہا آپ نے کوشش کی ہے اور مفید مشوروں سے نوازا ہے۔

دارالعلوم وقف دیوبند

1982 کا سال عالم اسلام کے لئے عجیب کڑھن اور درد لے کر آیا تھا، اس سال عالَم اسلام کا عظیم ترین ادارہ اندرونی خلفشار کا شکار ہوگیا تھا۔ جس ادارہ نے سو سال سے زائد عرصہ تک قوم و ملت کی خدمت کی تھی اور جس کی آبیاری میں مولانا محمد قاسمی نانوتویؒ نے خون جگر نچوڑ کر لگایا تھا، اور جسے برگ و باراں بنانے میں شیخ الہند، علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا حبیب الرحمان عثمانی، مولانا حسین احمد مدنی اور حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ نے زندگی وقف کی تھی، اسی ادارہ سے پچاس سالہ خدمات انجام دینے کے بعد حضرت حکیم الاسلام کو دست بردار ہونے کے لئے کہا جارہا تھا۔ بالآخر چشم فلک نے وہ پرآشوب گھڑی بھی دیکھی تھی جس میں حضرت حکیم الاسلام اپنے رفقاء کار سمیت دارالعلوم دیوبند سے رخصت ہوئے تھے۔ 1982 کے سانحہ کے بعد خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمیؒ اور مولانا انظر شاہ کشمیری جیسے افراد نے دیوبند کی جامع مسجد میں حضرت حکیم الاسلام کی سرپرستی میں دارالعلوم وقف دیوبند کا سلسلہ شروع فرمایا۔

1994 میں دارالعلوم وقف دیوبند کو جامع مسجد سے منتقل کرکے موجودہ زمین پر بنانے کا کام شروع ہوا، کسمپرسی کی حالت میں قائم کیا گیا ادارہ آج عالَم اسلام کے افق پر ستارہ بن کر چمک رہا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں ہر سال تشنگان علوم نبویہ سیراب ہوکر اکناف عالم میں دین اسلام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالی ادارہ کو مزید ترقیات سے نوازے اور امت مسلمہ کے حق میں نافع اور مفید بنائے۔ ادارہ کی کامیابی و کامرانی کے لئے ذمہ داران نے جو قربانیاں دی ہیں اور جس طرح فاقے برداشت کئے ہیں وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ مولانا محمد سالم قاسمیؒ نے ملک کے مختلف گوشوں اور علاقوں کا دورہ کرکے مدرسہ کی ضرورتوں کی تکمیل کی ہے۔

مولانا کی تصنیفات

آپ کا بیشتر وقت درس و تدریس میں صرف ہوا کرتا تھا، خارجی اوقات میں امت مسلمہ کے منتشر مسائل کو سلجھانے اور انہیں لڑی میں پرونے کی نظر ہو جایا کرتے تھے۔ مہمانوں کی آمد، واردین کی کثرت اور اسفار کی صعوبتوں نے یکسو ہوکر وقت گزارنے کا موقع فراہم نہیں کیا تھا، اس کے باوجود آپ کے قلم سے کئی نادر و نایاب کتابیں منظر عام پر آئی ہیں۔ البتہ آپ نے علمی پروگرام اور سیمینار میں شرکت کے لئے جو مقالات مرتب فرمائے ہیں وہ الگ ہیں جن کی اشاعت حجۃ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم     وقف دیوبند کی جانب سے کی جائے گی (ان شاء اللہ)۔ آپ نے باضابطہ جو کتابیں تصنیف فرمائی ہیں ان میں”مبادی التربیۃ الاسلامی (عربی)” "جائزہ ترجمہ قرآن کریم”، "تاجدار ارض حرم کا پیغام”، "مردان غازی”، "ایک عظیم تاریخی خدمت”، "سفر نامہ برما” اور "حقیقت معران” شامل ہیں۔

انداز خطابت

عالَم اسلام نے آپ کو خطیب الاسلام کے لقب سے نوازا تھا، آپ یقینا اس کے حقیقی مصداق تھے، آپ کے بیان میں علم و معرفت اور اسرار و رموز کی باتیں پنہاں ہوتی تھیں، جس کی بنا پر گھنٹوں تک چلنے والی مجلس میں بھی لوگ ہمہ تن گوش رہا کرتے تھے۔ آپ کی قوت بیانی کا اثر تھا کہ طلبہ کرام آپ کے گھنٹے میں شرکت کے لئے بے چین و بے قرار رہا کرتے تھے، اور یہ کوشش ہوا کرتی تھی کہ مولانا کی آمد سے قبل درس گاہ میں حاضر ہوجائیں تاکہ از اول تا آخر استفادہ کا موقع مل سکے۔ آپ صاحبِ علم اور صاحب فضل و کمال تھے، اس لئے آپ کی تقریر اور وعظ و نصیحت کی مجالس لغو اور حشو کلام سے پاک ہوا کرتی تھی۔ مولانا کی باتیں مستقبل کی پیشن گوئی کے مترادف ہوا کرتی تھی، اتقوا فراسۃ المومن کی جیتی جاگتی مثال تھے، آپ مجالس میں اکثر فرمایا کرتے تھے: "اپنے مسلک کی تبلیغ و اشاعت سے بچو بلکہ دین اسلام کی اشاعت و تبلیغ کرو”۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ فتنہ ارتداد اور ملک بھر میں مختلف مسائل ہمارے سامنے کھڑے ہیں لیکن قابل افسوس بات ہے کہ امت مسلمہ آج بھی مسلکی اختلافات کو ہوا دینے میں مصروف ہے اور مذہب کی حفاظت و صیانت کے بجائے مسلک مسلک کھیلنے میں قوت صرف کررہی ہے۔

بیعت و سلوک

علمائے اسلام کا قدیم طریقہ رہا ہے کہ وہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ باطنی علوم یعنی تزکیہ قلوب اور تطہیر کے لئے کسی ولی کامل کی خدمت میں وقت گزارتے ہیں تاکہ علم نافع ہو اور عوام کے درمیان کام کرنے کا سلیقہ میسر ہوجائے۔ خانقاہی نظام دراصل بھٹی ہے جہاں تپ کر اور وقت لگاکر انسان میں خدمت خلق اور لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ اور طریقہ پیدا ہوتا ہے۔ علمائے دیوبند کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ جس طرح علمی میدان میں علمائے اسلام کے سچے امین اور حقیقی وارث بن کر دینی خدمات انجام دیتے ہیں اسی طرح بیعت و سلوک کے باب میں بھی انہوں نے شیخ طریقت اور ولی کامل کے دامن کو ہمیشہ تھامے رکھا ہے۔ مولانا محمد سالم قاسمیؒ نے تعلیمی سفر کے بعد خانقاہی نظام سے وابستہ ہونے کے لئے شیخ طریقت شیخ عبد القادر رائے پوریؒ کا دامن تھاما، ان کے دست مبارک پر بیعت فرمائی اور اوراد و وظائف کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ شیخ عبد القادر رائے پوریؒ کی وفات کے بعد مولانا محمد سالم قاسمیؒ نے اپنے والد محترم حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کے دامن ارادت سے وابستہ ہوئے جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے اجل خلفاء میں سے تھے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ علوم ظاہری کے ساتھ اگر علوم باطنی کا امتزاج ہوجائے تو انسان کو نکھرنے اور سنورنے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے ، کیونکہ کسی ولی کامل کی نگرانی میں زندگی بسر کرنا اور اپنے احوال و کوائف سے انہیں مطلع کرتے رہنے سے نیک کاموں میں سبقت کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور غیر ضروری کاموں سے دوری بنانے کا مزاج بنتا چلا جاتا ہے۔ آپ خود بھی شیخ کامل تھے، اور علماء کرام کی کثیر جماعت نے علمی میدان میں استفادہ کے علاوہ باطنی علوم میں بھی خوب استفادہ کیا ہے۔ ملک بھر میں آپ کے خلفاء اور مریدین کی تعداد موجود ہیں جو خدمت خلق میں مصروف ہیں۔

اعزازات و امتیازات

دنیا میں دو طرح کے افراد پائے جاتے ہیں، اول وہ جو عہدے مناصب اور جاہ و حشمت کے پیچھے بھاگتے ہیں، اپنے مفاد کی خاطر قوم کی رسوائی اور بدنامی کا سبب بنتے ہیں جبکہ دوسرا طبقہ ان افراد کا ہے جن کے پیچھے شہرت و ناموری بھاگتی ہے، جو خلوت نشینی اختیار کرنا چاہتے ہیں، افراتفری اور دنیاوی بھیڑ بھاڑ سے دور رہنا چاہتے ہیں لیکن ان کی شخصیت اتنی جاذب اور قوم و ملت کے لئے اتنی مفید ہوتی ہے کہ انہیں عوامی حلقوں میں عوام الناس کی فلاح و بہبود اور راہنمائی کے لئے آنا پڑتا ہے۔ خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی ذات گرامی بھی ان میں سے تھی جن کے نام کے ساتھ عزت و احترام اور اعزازات و انعامات لگے ہوئے تھے۔ ملک و بیرون ملک میں آپ کے چاہنے والے اور آپ سے عقیدت رکھنے والے موجود تھے جنہوں نے وقتا فوقتا مولانا کی خدمت اور سرپرستی میں ادارے اور انعامات رکھے تھے، ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:

مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند(1983-2014)

صدر مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند (2014-2018)

نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

صدر آل انڈیا فقہ اکیڈمی

صدر آل انڈیا مجلس مشاورت

کورٹ ممبر آف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

رکن شوری مظاہر علوم وقف سہارنپور

رکن شوری ندوۃ العلماء لکھنؤ

علاوہ ازیں، چند ایوارڈ جن سے آپ کو نوازا گیا درج ذیل ہیں:

مصر حکومت نے آپ کو "خطیب الاسلام” کے لقب سے نوازا

امام محمد قاسم نانوتویؒ ایوارڈ (ساؤتھ افریقہ)

شاہ ولی اللہ ایوارڈ

سفر آخرت

اللہ تعالی نے آپ کو مثالی صحت سے نوازا تھا، درازی عمر کے باوجود بیماریوں کے اثر سے محفوظ تھے، البتہ کمزوری کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذور تھے اس لئے وہیل چیئر کے سہارے چلا کرتے تھے۔ اللہ تعالی نے ضبط تام عطا فرمایا تھا، اس عمر میں بھی باتیں مکمل طور پر یاد رہا کرتی تھی اور افراد کی شناخت میں کوئی ذہول نہیں پیدا ہوتا تھا۔ 8 اپریل 2018 کو سانس میں تکلیف محسوس ہوئی، علاج و معالجہ کے لئے ڈاکٹر سے رابطہ کیا گیا، لیکن وقت موعود آپہنچا تھا، دوا وغیرہ سے افاقہ نہیں ہوا اور بالآخر 14 اپریل 2018 کو آپ مالک حقیقی کی بارگاہ میں پہنچ گئے۔

 

 

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے