ملکی سطح پر لگنے والے کتاب میلے

ملکی سطح پر لگنے والے کتاب میلے

دنیا آج ڈیجیٹل دور میں ہے، ٹیکنالوجی اور روز مرہ کی دریافت نے انسانی زندگی کے دھارے کو مکمل طور پر تبدیل کردیا ہے، ہر آنے والا دن ایک نئی ایجاد اور ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے، دنیا اپنی وسعت و کشادگی کے باوجود سمٹ کر ایک گاؤں میں تبدیل ہوگئی ہے، پلک جھپکتے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی دوری میں بسنے والے افراد ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے قابل ہوگئے ہیں لیکن ان تمام ترقیات کے باوجود کتاب کی اہمیت و افادیت مسلم ہے۔ علم سے محبت کرنے والوں کے لئے ماضی میں بھی کتاب سب سے بہترین دریافت تھی اور آج بھی کتاب سب سے بہترین دریافت ہے۔ ٹیکنالوجی کے دور میں زندگی گزارنے والے یہ وہ افراد ہیں جنہیں آج بھی کتابیں مسحور کرتی ہیں۔

دنیا میں کوئی ایسا ملک یا علاقہ نہیں ہے جہاں تعلیم کو بنیادی ترجیحات حاصل نہ ہو، بلکہ موجودہ دور میں کامیابی وکامرانی کا دار و مدار تعلیمی قابلیت اور صلاحیت پر منحصر ہے۔ جس ملک کی کثیر آبادی تعلیم یافتہ ہے اس ملک کو دیگر ممالک پر یک گونہ برتری حاصل ہے، اسی طرح سماج اور معاشرہ میں رہنے والے افراد میں زیادہ علم والے کو دیگر افراد پر فضیلت حاصل ہوتی ہے۔ علم کو باقی رکھنے اور چھوٹے بچوں میں علمی اشتیاق پیدا کرنے کے لیے گھر کی سطح سے لے کر ملکی سطح بلکہ عالمی سطح تک مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ مدارس اور اسکول میں اساتذہ کی ترغیبات کے علاوہ مختلف اوقات میں مختلف مسابقے منعقد کرکے طلبہ کو شرکت کے لیے ابھارا جاتا ہے، اور اچھی کارکردگی پیش کرنے والے طلبہ کو دیگر تمام طلبہ کی موجودگی میں انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں سرکاری سطح پر منعقد کیے جانے والے امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو ملکی سطح پر پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔ ان انعامات اور اعزازات کا ایک مقصد محنت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور دیگر طلبہ کے لئے نمونہ ہوتا ہے کہ اگر دوسرے بھی اسی محنت کا مظاہرہ کریں تو انہیں بھی انعامات و اعزازات سے نوازا جائے گا۔

اسی سلسلہ کی ایک کڑی کتاب میلہ ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں کبھی ریاستی سطح پر، کبھی ملکی سطح پر اور کبھی عالمی سطح پر کتاب میلے منعقد کئے جاتے ہیں۔ ان کتاب میلوں کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ یہاں ہر زبان کی کتابیں بآسانی فراہم ہوتی ہیں نیز مکتبے اور ادارے اپنے اعتبار سے اپنی کتابوں کا اسٹال لگاتے ہیں۔ کتابوں کے شوقین حضرات کی کثیر جماعت ان کتاب میلوں سے مستفید ہوتی ہے، لوگ اپنی پسند کی کتابیں بآسانی حاصل کر لیتے ہیں نیز کتابوں کی دنیا میں سیر کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ دیگر کتابوں سے بھی شناسائی پیدا ہوتی ہے اور بسا اوقات ایسی کتابیں مل جاتی ہیں جن کا حصول عام حالات میں مشکل ہوتا ہے۔ علم دوست افراد اپنے چھوٹے بچوں کو ان کتاب میلوں میں لے جاتے ہیں تاکہ ان میں بھی لکھنے پڑھنے اور کتابوں سے محبت کا جذبہ پیدا ہو، کثیر رقم خرچ کرکے کتابیں خریدی جاتی ہیں، یہ خوش آئند پہلو ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی کتاب میلوں کی کشش باقی ہے لوگوں کا ہجوم یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ کاغذ کی یہ مہک آج بھی تشنہ لبوں کو سیراب کرتی ہے اور علم دوستی کی اہمیت اور قدر آج بھی دلوں میں باقی ہے۔

لیکن ان کتاب میلوں کے انعقاد کے وقت ہمیشہ دل میں یہ خلش رہتی ہے کہ کتابوں کی اس عظیم دنیا میں علم و فکر سے صدیوں تک دنیا کو سیراب کرنے والے محققین و مفکرین کے نام لیوا یا تو نظر نہیں آتے ہیں یا پھر ان کی شمولیت برائے نام ہوتی ہے۔ حالانکہ ہندوستان کی موجودہ سیاست اور بین مذہبی دوری اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنے افعال و کردار کے ساتھ ساتھ اپنی تحریروں اور کتابوں کے ذریعہ مذہب اسلام کی حقیقی روح کو دوسروں تک پہنچانے کا کام کریں۔ ہمارے ملک میں وقتاً فوقتاً مذہب اسلام کے تئیں دیگر مذاہب سے وابستہ افراد کو بدظن کرنے کے لیے مختلف حربے آزمائے جاتے ہیں، ان کے تدارک کے لیے یہ کتاب میلے اکسیر ثابت ہوسکتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہم دوسروں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں اور انہیں اسلام کی حقیقت سمجھائیں، اس کار خیر کے لیے جو بھی مناسب اور موزوں طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں انہیں مکمل دلجمعی کے ساتھ اپنانے کی ضرورت ہے۔ کتاب میلوں میں شرکت بغرض تجارت نہیں بلکہ بغرض تبلیغ ہو، ایسے مواقع پر عارضی فائدے نہیں بلکہ دیر پا منفعت کو مقدم رکھنا چاہیے۔

اس سلسلہ میں جو کام کئے جاسکتے ہیں اور جنہیں ہمارے اکابرین، قوم کے زعماء اور شرفاء بحسن وخوبی انجام دے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ملکی سطح پر تین زبانوں میں اور علاقائی سطح پر علاقائی زبان کی شمولیت کے ساتھ مختصر مدلل کتابچے تیار کئے جائیں۔ مختلف عناوین کے تحت عقلی و نقلی دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے صحیح تصور کو پیش کیا جائے، اختلافی اور غیر ضروری باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے دعوتی طرز کو اپنایا جائے۔ چھوٹی بڑی کتابوں کے ساتھ ان کتابچوں کو تقسیم کیا جائے اور ہر آنے والے کو بطور ہدیہ پیش کیا جائے۔ ہم اپنی جانب سے کوشش کریں، ان شاءاللہ، اس کے مثبت اور دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ ملک بھر میں لگنے والے یہ کتاب میلے ہمارے لیے نعمت غیر مترقبہ ہیں، جس کی جانب اگر مکمل توجہ دی جائے گی تو خیر کے کئی پہلو سامنے آئیں گے۔کتاب میلوں میں پہنچ کر کتابوں کی خریداری کرنے والے ہر مذہب اور ہر طبقہ کے افراد ہوتے ہیں، ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو حقیقی معنوں میں کتابوں کی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں اور ایسے افراد بسا اوقات اپنی دلچسپی کو بڑھانے کے لئے بھی ایسی کتابیں خریدتے ہیں جو ان کے مزاج اور مطالعہ کے ہم آہنگ نہیں ہوتی ہے، لیکن مطالعہ کا شوق انہیں ایسی کتابیں خریدنے پر ابھارتا ہے۔ لیکن ان کاموں کے لئے ضروری ہے کہ اجتماعی طور پر کوشش کی جائے اور بڑے پیمانے پر عمدہ اسلوب میں کتابیں مرتب کی جائیں یا پرانی کتابوں کو نئے سرے سے شائع کیا جائے تاکہ دیدہ زیب بھی ہو اور مطالعہ کے بعد مفید بھی ثابت ہو۔ بجائے اس کے کہ ہم ایک طبقہ کو اپنی نظر کا محور بنائیں، بہتر ہے کہ ہم ملک میں بسنے والے ہر ہندوستانی کو اپنی نظر کا محور بنائیں اور اسی اعتبار سے کتابوں کی دنیا میں کام کرنے کو ترجیح دیں۔

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے