کہاں گئے وہ دل والے لوگ

اسجد عقابی

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات و حادثات درج ہیں کہ اگر وہ کسی اور مذہب یا قوم پر آئے ہوتے تو شاید ان کا نام و نشان مٹ گیا ہوتا اور تاریخ عالم میں انہیں ایک بھولی بسری اور داستان پارینہ کے طور پر یاد کئے جانے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ لیکن اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک ایسی رکھی ہے کہ تاریخ گواہ ہے جب جب اسے، جتنا زیادہ دبانے اور بزور شمشیر زیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس کے سُوتے اسی تیزی کے ساتھ پھیلے ہیں اور پہلے سے زیادہ مضبوط و طاقت ور بن کر سامنے آئے ہیں۔ مذہب اسلام کی باد بہاراں نے ان لوگوں کو بھی اپنے جود و سخا سے نوازا ہے جنہوں نے اسے اجاڑنے کی قسمیں کھائی تھیں۔ اسلام نے ان لوگوں کو بھی پناہ دیا ہے جنہوں نے مذہب اسلام کو روئے زمین سے ختم کرنے کا عزم کیا تھا اور اس نے ایسے لوگوں کو بھی اپنایا ہے جنہوں نے اس کی دشمنی میں اس کے ماننے والے کے سروں کے گنبد تعمیر کرائے ہیں۔ یہاں یہ سوچنے کی بات ہے کہ آخر مذہب اسلام میں ایسی کیا خوبیاں ہیں کہ اتنے حوادث کے بعد آج بھی پھل پھول رہا ہے اور دانشوروں کی جماعت در جماعت اس سے وابستہ ہوکر اپنی زندگی میں سکون و اطمینان محسوس کررہے ہیں۔ 

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام نے اپنے مذہب کی حفاظت و صیانت اور ترویج و اشاعت کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑا ہے۔ اسلام کی نشر و اشاعت میں ایک تو خود مذہب اسلام کا اپنا اصول و ضابطہ ہے، ایک ایسا اصول جو ہر فرد کے لئے یکساں ہے اور جس پر عمل کرنا ہر انسان کے لئے ممکن ہے۔ محلات میں رہنے والے سربراہان مملکت ہوں یا جھونپڑیوں میں بسنے والے فقراء، تمام کو اسلام میں یکسانیت حاصل ہے۔ اسلام میں وحدانیت کا تصور اتنا واضح اور صاف ہے کہ کوئی بھی سلیم الطبع انسان اس سے آنکھ نہیں چرا سکتا ہے، اسی طرح عبادات کے باب میں بیان کئے گئے تمام طریقے فطرت انسانی کے مطابق اور ہم آہنگ ہیں۔ غرضیکہ یہ اسلام کی اپنی خوبی اور صفات حمیدہ ہےجو ہر ذی ہوش اور سلیم الفکر انسان کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ اس کے علاوہ اسلام کے ماننے والوں نے اسلامی حکم "بلغوا عنی ولو آیۃ” میرا پیغام پہنچاؤ چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو، پر عمل کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا نصب العین بنایا۔ اشاعت اسلام میں مسلمانوں کے دو طبقوں کا کردار کافی نمایاں اور اہم ہے۔ اول علماء کرام، دوم صوفیاء عظام۔ ان دونوں طبقات نے اشاعت اسلام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ البتہ اگر ان کے کاموں کو تقسیم کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ علماء اسلام نے دفاع اسلام اور علمی میدان میں اہم کارنامے انجام دیئے ہیں جبکہ صوفیاء کرام (صوفیاء کرام سے مراد وہ اولیاء اللہ جنہیں ظاہری و باطنی دونوں علوم میں دسترس ہو) نے خانقاہوں کے ذریعہ عوام الناس میں زیادہ کام کیا ہے۔ اگر ہم اپنے ملک ہندوستان اور برصغیر کا تاریخی جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صوفیاء کرام کے دست مبارک پر بیک وقت پورا کا پورا گاؤں مسلمان ہوا ہے۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے حالات زندگی، بابا فریدالدین گنج شکر، شیخ شرف الدین یحیی منیری اور دیگر حضرات کی حیات و خدمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کثیر جماعت نے ان کے دست مبارک کو تھام کر راہ مستقیم کا راستہ منتخب کیا تھا۔ 

 اگر ہم موجودہ دور کا جائزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ملک ہندوستان اور دیگر ممالک میں اسلام کی ترویج و اشاعت اور دینی تعلیم کا ایک دراز سلسلہ ہے۔ کہیں مدارس کی شکل میں اسلامی قلعے موجود ہیں کہیں اسلامک سینٹر کے نام پر لوگوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ حالات اور وقت کا تقاضا بھی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے تاکہ لامذہبیت اور مادیت کی چکاچوند میں اپنا سب کچھ تلاش کرنے والے اپنے مالک حقیقی اور خالق سے رشتہ استوار رکھ سکے۔ کیونکہ خالق و مخلوق کے درمیان اگر رشتہ ٹوٹ جائے تو مخلوق کے حصہ میں خسارہ کے سوا کچھ اور نہیں آتا ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ ہمیں اس بات کا اعتراف بھی کرنا چاہئے کہ دل والے لوگ جو اپنی نگاہ ناز سے لوگوں کی کایا پلٹ دیا کرتے تھے، جن کی نگاہوں میں وہ تاثیر تھی کہ بادشاہوں کی سواریاں ان کے سامنے سے گزرنے کی روادار نہیں ہوا کرتی تھی۔ جن کے دربار میں عوام اور بادشاہ دونوں برابر تھے اور جن کے فیوض سے استفادہ کی خاطر جھونپڑی میں رہنے والے اور محلات میں پلنے والے دونوں آیا کرتے تھے۔ 

لیکن آج اگر ہم اپنے اطراف کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس ترقی یافتہ زمانہ میں جب کہ ہر میدان میں ترقی ہورہی ہے۔ علمی میدان میں کام کرنے والوں کے لئے آسانیاں فراہم ہیں۔ تعلیمی اداروں کے نام پر عالیشان پرشکوہ عمارتیں اور دیدہ زیب نقش و نگار آنکھوں کو خیرہ کئے ہوئے ہیں۔ کتابوں کی فراوانی ہے، وسائل کی بہتات ہے اور مختلف علمی میدانوں میں کام کرنے والے مختلف ناموں سے جانے جاتے ہیں اور ان کے کارنامے آئے دن اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت بنتے نظر آتے ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ دور کے انسانوں نے علمی میدان میں وہ مقام و مرتبہ حاصل کیا ہے جو شاید پہلے نہیں تھا، لیکن اب جس چیز کی کمی محسوس کی جارہی ہے وہ روحانیت ہے۔ علم دین کے ذرائع یقینا بے شمار ہیں اور کتابوں کی فراوانی نے ہر چیز کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور سہل بنادیا ہے ؛لیکن چونکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ علم دین محض ظاہری باتوں کو جاننے کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں تاثیر اور چاشنی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب علم کے بحر بے کراں میں روحانیت کی آمیزش ہو، علمی میدان میں تفوق اور رسوخ پیدا کرنے کے بعد کسی عارف باللہ اور اہل دل کی مجلس کا انتخاب کرکے وہاں کچھ دنوں کے لئے قیام کیا جائے تاکہ دل کی دنیا مزید منور ہو اور اس میں اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جگمگانے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ 

اگر ہم اپنے اسلاف و اکابرین کی تاریخ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں جس طرح دینی علوم میں دسترس ضروری سمجھا جاتا تھا اسی طرح کسی شیخ کے دامن ارادت سے وابستہ ہوکر تزکیہ قلوب کے لئے جفا کشی کو بھی لازم تصور کیا جاتا تھا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی دنوں میں اساتذہ اور طلبہ کرام کی بات تو کجا، مدرسہ کے جاروب کش بھی صاحب نسبت ہوا کرتے تھے۔ لیکن افسوس کہ زمانہ نے ایسی کروٹ کھائی کہ خانقاہوں کو آباد کرنے والے اور شب کی تاریکی میں اپنے بستروں سے جدا ہوکر رب صمدیت کی بارگاہ میں آنسو بہانے والے کم ہوتے گئے اور آہستہ آہستہ اس جانب سے لوگوں کا مزاج بھی ہٹتا چلا گیا۔ مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی اپنے والد محترم کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ ہم نے دو دکانیں ایسی دیکھی ہیں جہاں دل کا سودا ہوتا ہے، ایک گنگوہ میں جسے مولانا رشید احمد گنگوہی چلا رہے ہیں اور دوسری دکان گنج مرادآباد میں جسے مولانا فضل الرحمان گنج مرادآبادی آباد کئے ہوئے ہیں۔ یہ دل والے لوگ تھے جہاں دلوں کا سودا ہوتا تھا، اور قلوب میں ایسی تحریک پیدا کی جاتی تھی کہ انسان معرفت الہٰی کے حقیقی مفہوم سے آگاہ ہوجایا کرتا تھا۔ ایک بات دور حاضر کے عوام اور خصوصا علمائے کرام کو سمجھنا چاہیے کہ تزکیہ قلوب دین و دنیا کی بھلائی اور دوسروں تک اپنی بات پہنچانے کا بہت اہم ذریعہ ہے۔ مادیت کے سیل رواں نے ہم سب کو دنیاوی زندگی میں اس قدر مشغول کردیا ہے کہ بسا اوقات حلال و حرام کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور شکوک و شبہات کے سائے میں ہونے کے باوجود کنارہ کشی اختیار کرنے کے بجائے دلدل میں پھنسے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر انسانی قلوب معرفت الہٰی سے معطر ہو اور خوف خدا انسانی قلوب میں جاگزیں ہو تو پھر مادیت کی بہتات بھی انسان کو صراط مستقیم سے منحرف کرنے سے عاجز ہوتی ہے۔ اہل اللہ کی مجالس و محافل میں بیٹھنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دل اللہ کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور انسانی دماغ دنیاوی آسائش و زیبائش سے ہٹ کر آخرت اور آنے والی زندگی کے متعلق سوچنے کی فکر کرتا ہے۔ اگر ذکر و اذکار اور اوراد و وظائف کی مجالس میں شرکت پر مداومت اختیار کی جائے تو تزکیہ قلوب میں بہت مدد ملتی ہے اور ارشاد ربانی "آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے” سورہ رعد آیت 28)۔ اس آیت کی تفسیر میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی لکھتے ہیں: "عام طور پر مادی سہولتوں کو سکون و اطمینان کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے: لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، اطمینان دل کی اس کیفیت کا نام ہے کہ جس میں انسان کو قرار آجائے اور آگے کی لالچ باقی نہ رہے، مادی نعمتوں کی حرص جن لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالیتی ہے، ان کی منزل کبھی نہیں آتی ہے ، وہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں بے چین رہتے ہیں، لیکن جن لوگوں کا اللہ پر یقین ہوتا ہے ، اللہ کی یاد سے ان کے دلوں کو طمانینت حاصل ہوجاتی ہے، اگر اس نے کم دولت بھی حاصل کی تو یہ سوچ کر کہ چوں کہ اللہ کا یہی فیصلہ ہے اور ہم اس پر راضی ہیں، اس کا دل مطمئن ہوجاتا ہے”۔ لیکن دل کی یہ کیفیت ایک دن میں نہیں ہوتی ہے بلکہ دل کو اس کام کے لئے تیار کرنا پڑتا ہے، عبادت و ریاضت اور یاد الہٰی سے دل کی دنیا کو بسانا پڑتا ہے اور محبت الہٰی کے جام سے دل کو سرشار کرنا ہوتا ہے تب جاکر دل دنیاوی لذتوں میں الجھنے کے بجائے حقیقی لذائذ کا خواہش مند بنتا ہے۔ 

اس سلسلہ میں اعتراض ہوتا ہے کہ کیا ہم دنیاوی نعمتوں اور لذائذ سے کلی طور پر دست بردار ہوجائیں اور دنیا میں ہونے والے تغیرات سے آنکھیں موند کر کسی غار میں جا بیٹھیں، کیونکہ صوفیاء کرام کی زندگی اور ان کی باتوں سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ دنیاوی آسائش و زیبائش سے کنارہ کشی کئے بغیر ولایت حاصل نہیں ہوتی ہے۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام میں رہبانیت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، اور ہمارے اکابرین جنہوں نے سلوک و معرفت کی راہ کو اپنایا ہے ان میں ایسے بھی تھے جنہوں نے بوقت ضرورت میدان کارزار میں عَلم اسلام کو بلند کیا ہے اور شمیشر و سنان کی چھاؤں میں آرام کیا ہے، ایسے بھی تھے جو اپنے زمانے کے کامیاب ترین تاجر اور مال و دولت والے تھے۔ راہ سلوک پر چلنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیاوی اسباب سے کنارہ کشی اختیار کی جائے بلکہ اطاعت رسولﷺ کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا جائے اور اپنے ہر کام اور ہر عمل میں اسلامی تعلیمات کو مقدم رکھے اور یہی اصل تصوف و سلوک ہے اور ہمارے اکابرین اسی پر چل کر کامیاب ہوئے ہیں۔ تصوف کی حقیقت یہ ہے کہ انسان خدائی احکام اور تعلیمات نبویﷺپر گامزن رہے۔

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے