"شخصیت سازی کورس” کیا ہے؟

"شخصیت سازی کورس” کیا ہے؟

حجۃ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند کی جانب سےThe Budding Leadership Course  یعنی شخصیت سازی کا پانچ روزہ پروگرام تخصصات کے طلبہ کے لیے منعقد کرایا گیا، جس میں بحیثیت "ٹرینر” محترم ڈاکٹر عبداللہ علی مرزا بیگ کو مدعو کیا گیا۔ اس پروگرام سے طلبہ کرام نے کافی و شافی استفادہ کیا اور اپنے تاثرات کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی کہ کس طرح یہ ہماری آنے والے زندگی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا، چونکہ ہمارے مدارس کے طلبہ اور متعلقین اس سے ناآشنا رہے ہیں، اس لئے اس کورس کے متعلق چند باتیں سپرد قرطاس کی گئی ہیں۔ یہ کورس کیا ہے اور اس کورس کی افادیت کتنی ہے؟  درج ذیل چند سطور میں بعض خاکوں کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس کورس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں وہ باتیں جنہیں ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں انہیں عملی طور پر کرکے دکھایا جاتا ہے، اور پھر فرداً فرداً ہر ایک ساتھی کو عملی طور پر کرنے کو کہا جاتا ہے، بسا اوقات چند افراد پر مشتمل گروپ بنا کر انہیں باہم مشق کے لیے کہا جاتا ہے اور کبھی ایک فرد کو تمام کے سامنے پیش کر کے مفوضہ امر کو عملی شکل میں پیش کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ کسی بات کو جاننا اور اس پر عمل کرنا دو الگ بات ہے، جن باتوں کو عملی شکل میں انجام دیا جاتا ہے ان کی اہمیت و افادیت دو چند ہو جاتی ہے نیز بعد میں چل کر ان خطوط پر زندگی گزارنا بھی آسان ہو جاتا ہے، جب کہ محض جانکاری عملی زندگی میں بہت زیادہ معاون ثابت نہیں ہوتی ہے۔

ذہن سازی کہنے کو بہت آسان اور سہل عمل ہے، لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو یہ زندگی کے مشکل ترین امور میں سے ایک ہے۔ آج پوری دنیا اسی فارمولا کے تحت تجارت، سیاست حتی کہ فتنہ وفساد کو انجام دے رہی ہے۔ بسا اوقات ایسے حربے اور جذباتی باتوں کا سہارا لیا جاتا ہے کہ جم غفیر کی ذہن سازی کے لیے کارگر ثابت ہوتا ہے اور پھر اسی کے سہارے دیگر کام انجام دیئے جاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم تنہائی میں بیٹھ کر غور و خوض کریں تو احساس ہوتا ہے کہ ایک انسان کے لیے ذہن سازی کتنا مشکل کام ہے۔ دن بھر میں ہزاروں خیالات ہمارے ذہنوں سے ٹکراتے ہیں، ہزاروں بار ہم کسی کام کو انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کبھی تو خارجی وجوہات کو مورد الزام ٹھہرا کر، کبھی وقت کی تنگی داماں کی شکایت کرکے اور کبھی اپنی بساط سے باہر سوچ کر ان امور کو حتمی شکل نہیں دے پاتے ہیں اور نہ ہی ذہن ان باتوں پر اصرار کرتا ہے۔ شخصیت سازی کورس کی اہم بات یہ ہوتی ہے کہ یہ ہمیں ان پریشانیوں نیز خارجی و اندرونی مسائل سے نمٹنے اور انہیں نظر انداز کرکے ایک چیز پر توجہ مرکوز کرانے کی عملی مشق کراتا ہے۔ انسان کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے کس طرح ہم ایک جانب متوجہ رہ سکتے ہیں اور کیسے زندگی کی گہما گہمی ہمارے خیالات کو منتشر کرنے سے عاجز و قاصر رہ سکتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جب تک ایک جانب توجہ مرکوز نہیں رہے گی اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔

تیسری بات یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر انسان میں خوبیاں اور کمیاں رکھی ہے، اس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں  جو کہہ سکے  میں مکمل طور پر خوبیوں کا مرکز و منبع ہوں، انسان کو عموماً اپنی خوبیاں اور کمیاں دوسروں کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے۔ ایسے افراد بہت کم پائے جاتے ہیں جو اپنی خصوصیات کو سمجھنے یا شمار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ہم کاغذ قلم لے کر بیٹھتے ہیں، اپنی خوبیوں اور کمیوں کو شمار کرنا شروع کرتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہمارے نامہ اعمال میں فوائد سے زیادہ نقصانات ہیں۔ لیکن کبھی اس جانب توجہ نہیں دی جاتی ہے، توجہ نہ دینے کی اہم وجہ یہ ہے کہ اس جانب کسی نے ہماری راہنمائی نہیں کی ہے اور نہ ہی کسی نے ہمیں یہ بتایا کہ کن طریقوں کو اپنا کر خوبیوں کو دیکھا اور شمار کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ یہ بدیہی بات ہے کہ ہمیں احساس ہونا چاہئے کہ ہم کن امور میں بہتر ہیں اور کن امور کی انجام دہی میں ہمیں مشکلات درپیش آتی ہے یا پھر ہم بخوبی اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے سے عاجز و قاصر ہوتے ہیں۔ اس کورس کی یہ بھی خاص بات  ہے کہ یہ  ان راہوں پر گامزن ہونے میں معاون ثابت ہوتا ہے جن کے ذریعہ خوبیوں اور کمیوں کا ادراک کیا جائے اور ان کا احتساب کیا جائے، کیوں کہ جب تک ان چیزوں کا احتساب نہیں ہوگا ان میں مزید بہتری پیدا کرنا مشکل ترین امر ہوگا۔ انسانی زندگی کا المیہ ہے کہ ہم دوسروں کی کمی پر کھل کر تنقید کرتے ہیں، دوسروں کے نقائص کو بیان کرتے ہیں، بسا اوقات ہمارا رویہ تضحیک تک پہنچ جاتا ہے لیکن اپنی کمی کی جانب کبھی توجہ نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی انہیں دور کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔

سماجی رابطے کی انسانی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ افراد فطری طور پر نیک سیرت، خوش گفتار اور ملنسار ہوتے ہیں جبکہ ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو اپنے غصہ اور رویوں کی وجہ سے دوسروں کی نظروں میں اپنی وقعت کھو دیتے ہیں۔ حالانکہ ایک بہترین سماج اور خوبصورت معاشرتی زندگی کے لیے ہم آہنگی اور انس ومحبت ضروری ہے نیز دوسرے کے احساس و جذبات کو پرکھنا اور اس کے مطابق کام کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ کورس ہمیں ان نشیب و فراز اور ذہن کی ان پوشیدہ صلاحیتوں سے واقف کراتا ہے جو ایسے حالات میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اگر لہجوں میں خوش اخلاقی جھلکنے لگے اور بات چیت کے ذریعہ دوسروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا ہنر سیکھ لیا جائے تو یہ صرف معاشرتی زندگی کے لیے نہیں بلکہ دعوتی نقطہ نظر سے بھی بہت مفید ہے۔ غصہ ایک مفید عمل ہے، اگر اس کا صحیح اور بر محل استعمال کیا جائے ورنہ یہ انسان کی شخصیت کو داغدار بنا دیتا ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ یہ کورس اور ان جیسے دوسرے کورسز جو ہمیں ہماری اپنی صلاحیتوں سے واقف کراتے ہیں اور ان کے استعمال کے طریقوں سے واقف کراتے ہیں، یقیناً طلبہ، اساتذہ اور دیگر افراد کے لیے بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ پروفیشنل زندگی میں ان چیزوں کو جو اہمیت حاصل ہے ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بڑی بڑی یونیورسٹیاں، کالجز، مالی ادارے اور کارپوریٹ سیکٹر والے اپنے ملازمین اساتذہ، ملازمین اور عہدیداروں کے لیے ایسے پروگرام منعقد کراتے رہتے ہیں۔ سماجی رابطوں میں مضبوطی پیدا کرنے کے لیے سماجی طور طریقوں کو سیکھنا ضروری ہے۔ شخصیت سازی کورس کے یہ چند بنیادی خد و خال ہیں جو یقینا قابل عمل ہیں، اس کورس کی حقیقت اسی وقت سمجھ میں آتی ہے جس اس سے متعارف اور رو برو ہوا جائے۔ کسی علم یا فن کو محض چند سطور میں پرویا نہیں جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔

اخیر میں، ہم اپنے ادارہ کے ذمہ داران حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی "مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند” اور نائب مہتمم و ڈائریکٹر حجۃ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند کے شکر گزار ہیں جنہوں نے طلبہ کرام کو یہ موقع فراہم کیا اور جن کے ساتھ اساتذہ بھی اس سے مستفید ہوئے ہیں۔ دارالعلوم وقف دیوبند میں گزشتہ کئی سالوں سے طلبہ کرام کو مختلف علوم و فنون سے واقف کرانے کے لئے "محاضرات علمیہ” کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت مختلف عناوین پر مختلف اوقات میں ماہرین سے استفادہ کیا جاتا رہا ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری و ساری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ادارہ کو مزید ترقیات سے نوازے اور امت مسلمہ کے لیے نافع بنائے۔

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے